|
اسلامی بیداری اکیسویں صدی، اسلام کی صدی ہے
|
بقیہ حصہ طبقه بندی: اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، پاکستان میں اسلامی بیداری، سکالرز اور اسلامی بیداری ، [ جمعه 1391/03/5 ] [ 06:44 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
[ جمعه 1391/03/5 ] [ 03:46 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
دعوت مضمون نویسی بین الاقوامی کانفرنس “خواتین اور اسلامی بیداری” ۱۰ ، ۱۱ جولائی ۲۰۱۲
مقدمہ اسلامی دنیا میں اسلامی بیداری کی موج اور نئے تغییر و تبدل ایسے سیاسی اور اعتقادی حوادث کا موجب بنی جو حقیقی اسلامی مفاہیم سے اخذ شدہ ہے۔ اور تمام خواتین و مرد حضرات میں یہ خواھش ہمیں ان کی گفتگو اور تبادلہ خیال میں نظر آتی ہے۔ یہاں خواتین کا وہ بے مثال کردار کہ جو اس قسم کے اسلامی تغیر و تبدل کو باقی رکھنے اور اسکی حفاظت کا ضامن ہو سکتاہے اور اس بیداری کو دشمنوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ امام خمینی “رہ” نہ صرف خواتین کے قانونی اور اخلاقی حقوق کے پلٹانے پر تاکید کرتے ہیں بلکہ ان کو سیاسی میدان میں بھی فعالیت کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خواتین کو چاہیئے کہ وہ حکومتی معاملات میں مداخلت کریں اور وہ ان کے سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں حضور کا اعتراف کرتے ہوئے خواتین کو “تحریک کے رھبروں” کا لقب دیا کرتے تھے۔ اسی بنا پر اسلامی بیداری کانفرنس کے دفتر نے انقلابات کو اپنے ھدف تک پہنچنے میں خواتین کے کردار کو بیان کرنے کی خاطر اس موضوع پر ۱۰ اور ۱۱ جولائی ۲۰۱۲ کو ایک کانفرنس کو منعقد کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ تمام دانشمند حضرات، علما، مفکر، صاحب رای اور خواتین حضرات کو دعوت دی جاتی ہے کہ اپنے مقالات اور مضامین کے ذریعے ہمیں اس پروگرام کو مفید تر بنانے میں مدد دیں۔ کانفرنس کے اھداف: ۱۔ اسلامی اھداف اور اقدار کے اصول کا احیاء اور ان کا اسلامی شریعت و قرآن کے مطابق معاشرہ میں رواج ۲۔ اسلامی کرامت اور اسلامی ممالک کی قومی عزت کا احیاء اور تجدید ۳۔ دین ، عقلانیت، علم اور اخلاق کی بنیاد پر بین الاقوامی اسلامی قدرت کی تشکیل اور اسلامی جدید تمدن کی ایجاد۔ ۴۔ مختلف گروہوں، شخصیات، اور معروف افراد کے درمیان مسالمت آمیز فضا کی ایجاد اور مختلف تحریکوں کے تجارب سے استفادہ۔ ۵۔ نئے سیاسی نظام کی تشکیل میں کفر اور استکباری نظام کے مداخلے اور نفوذ کا مقابلہ ۶۔ مغربی لیبرل ڈیموکریسی کے مقابلے میں اسلامی جمھوری نظام کو پیش کرنا۔ ۷۔ سلطنتی نظام، بین الاقوامی استکباری نظام اور بین الاقوامی صیہونیزم کے ظلم و ستم اور ڈکٹیڑشب سے جنگ ۸۔ بین الاقوامی غاصب نظام کی نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈے کے مقابلے میں خود اعتمادی اور قومی اعتماد کی فضا کی تقویت۔ مضمون نویسی کے عناوین اور موضوعات اسلامی بیداری کی لہر میں مسلمان خاتون کی نظری، فکری، فقھی، اور قانونی بنیادیں ۱- فکری، معرفتی، اسلامی، اور انقلابی بنیادوں کے مطابق عورت کی پہچان اور اس کے اسلامی بیداری تحریک پر اثرات۔ ۲۔ امام خمینی “رہ” اور امام خامنہ ای “حفظہ اللہ” کی نگاہ میں اسلامی بیداری کی موج میں مسلمان عورت کی ذمہ داریاں۔ ۳۔ اسلامی معاشروں کے تحولات میں مسلمان عورت کے کردار کے بارے میں مفکرین اور دانش مند حضرات کے نظریوں کا جایزہ ۔ ۴۔ اسلامی بیداری کی تحریکوں میں خواتین کی شمولیت اور ان تحریکوں پر اثرات، اسلامی فقھی اور قانونی مبانی کے مطابق تجزیہ و تحلیل ۔ ۵۔ مسلمان عورت کے اسلامی بیداری کے تحولات میں حضور کے مختلف ابعاد کا جایزہ اور اسکے قانونی اور فقھی ملازمات۔ ۶۔ اسلامی جمھوری حکومت کی خصوصیات کا بیان اور اسکا مغربی لبرل ڈیموکریسی کے ساتھ مقایسہ اور اس کے اجراء میں خواتین کا کردار۔ ۷۔ خواتین کا انقلابات کی کامیابی میں کردار اور ان کے اجتماعی، سیاسی اور ثقافتی تحریکوں میں کردار کے بارے میں فقھی اور قانونی بنیادی اصولوں کا جایزہ ۔ اسلامی بیداری میں خواتین اور جدید اسلامی اقدار ۱۔ اسلامی بیداری کے تسلسل اور اسکی حفاظت میں مسلمان خاتون میں حجاب، عفت، حیا اور معنویت کے کلچر کا کردار۔ ۲۔ اسلامی انقلابی مفاہیم اور اقدار کی روشنی میں اسلامی بیداری میں مسلمان عورت کی پہچان کا احیاء۔ ۳۔ اسلامی بیداری میں مسلمان خواتین کے ظلم ستیز اور عدالت خواہ رویہ کے زندہ ہونے پر دینی تعلیمات کے اثرات۔ ۴۔ بیداری اسلامی میں مسلمان عورت کے مقام اور اسکی پہچان کی حفاظت میں اخلاقی اقدار کا کردار۔ ۵۔ دینی اعتقادات کا مسلمان خاتون کے انسانی کرامت و عزت کی ترقی میں کردار، جو اس کی اسلامی بیداری کی لہر میں مختلف انداز میں شرکت کا سبب بنے۔ اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کا سیاسی، معاشرتی، کلچرل، اور انقلابی کردار۔ ۱۔ خواتین کے اجتماعی کردار اور اس کے اسلامی بیداری کی تحریک میں روز بروز اضافہ میں عوام پر اثرات کا مطالعہ۔ ۲۔ مسلمان عورت کا استقلال، آزادی اور دینی جمھوری حکومت کے قیام میں مفید سیاسی کردار کیسے ممکن ہے؟ ۳۔ اسلامی بیداری تحریک کی حفاظت اور اس کو مضبوط بنانے کیلئے مسلمان خواتین کے حداکثر حضور کے ملازمات اور اس کے مختلف پہلوؤں کا بیان۔ ۴۔ اسلامی بیداری کی لہر میں خواتین کا کردار اور اس پر انقلاب اسلامی ، امام خمینی “رہ” اور امام خامنہ ای “حفظہ اللہ” کے اثرات۔ ۵۔ مسلمان دانشمند، مفکرہ اور بہترین نمونہ کی حامل خواتین کا اسلامی بیداری کی تحریک میں ہدایت اور رہبری کے بے نظیر کردار کا بیان۔ ۶۔ اسلامی بیداری لہر کی فلسفی اور علمی بنیادوں کی فراہمی اور ان کی تقویت میں مسلمان دانشمند، محقق اور نمونہ عمل خواتین کے کردار کا مطالعہ۔ ۷۔ عورت کے خاندان کی تربیت اور اسکی مستحکم بنیادوں کی فراھمی کے مقام کا مطالعہ کہ جو معاشرتی نظام کا اصلی ترین عنصر ہے اور اس کا اسلامی بیداری کی تحریک کے استمرار اور اس میں حضور کیلئے کردار۔ مسلمان خواتین اور اسلامی بیداری کی تحریک، تنقیدی جایزہ (کمزوریاں اور خطرات) ۱۔ اسلامی بیداری کو درپیش چیلنجز اور انکا حل اور اس جدوجہد میں خواتین کا کردار۔ ۲۔ انقلابی اور موثر خواتین کو اسلامی بیداری کی لہر میں اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں حائل موانع اور مشکلات ، انکے علل و اسباب کا مطالعہ (خواتین کا شریک نہ ہونا، متعصبانہ رویہ، خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز سلوک ۔۔۔۔۔۔۔ ) ۳۔ اسلامی بیداری کے علاقوں میں خواتین کی پس ماندگی کے اسباب اور ان کی گمشدہ شناخت کا دوبارہ حصول کیسے ممکن؟ ۴۔ اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کے کردار کو منحرف کرنے میں مغربی لبرل ڈیموکریسی کے اثرات ۵۔ مغربی منحرف مکاتب فکر سے مقابلہ کیلئے اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کے موثر کردار کے راستے اور طریقے ۶۔ بیداری اسلامی کی تحریک میں خواتین کے کردار کو متاثر کرنے میں جدید آلات و ابزار(میڈیا، سایبرسپیس اور ۔۔۔۔)، نفیساتی جنگ، اور عالمی استکبار کے پروپیگنڈے کے اثرات۔ اسلامی بیداری کی لہر میں انقلاب اسلامی، ماڈل رولز، تجربات، اور خواتین کے کارنامے ۱۔ ابتدائے اسلام کی نمونہ عمل خواتین کے کردار کا اسلامی بیداری کی لہر میں بہترین انسانی اقدار کے احیاء پر اثرات۔ ۲۔ نمونہ عمل خواتین شھداء کا تعارف، بعنوان مسلمان رول ماڈل خواتین اور اسلامی بیداری میں ان کی تاثیر۔ ۳۔ اسلامی ممالک کی انقلابی خواتین کا ایک دوسرے کے تجربات سے آشنائی، کیوں اور کیسے ؟ ۴۔ بیداری اسلامی کی تحریک میں خواتین کو آیندہ در پیش ضروریات کے مدنظر مناسب گروپس، انجمنوں اور سوشل نیٹ ورکس کے قیام کی ضرورت۔ ۵۔ خواتین بسیج کو عوامی انقلابی آرگنائزیشن کے طور پر ماڈل رول کی حیثیت سے پیش کرنا، انکے کارناموں کس طرح دیگر اسلامی بیداری کے معاشروں کو منتقل کیا جا سکتا ہے؟ ۶۔ اسلامی بیداری ممالک میں خواتین کی فعالیت اور انقلاب اسلامی میں خواتین کی فعالیت سے ایک ماڈل رول کے حصول کا تطبیقی جایزہ ۔ مضمون نویسی کی شرایط ۱۔ مضمون کم از کم ۱۰ اور زیادہ سے زیادہ ۲۰ صفحات پر مشتمل ہو۔ ۲۔ مضمون منظم علمی خطوط کی بنیاد پر ہو اور اس میں عنوان، خلاصہ، نتیجہ بحث اور راہ حل کا بیان ہو۔ ۳۔ مضمون نگار کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تعارف (عمر، تعلیم، عھدہ) کو مضمون کے ساتھ ارسال کرے۔ ۴۔ فارسی اور عربی میں لکھے گئے مضامین کیلئے (نازنین ۱۴) اور لاتینی مضامین کیلئے (Time New Roman 12) فونٹ استعمال کیا جائے۔ ۵۔ مضمون (Word 2007) سافٹ ویئر میں لکھا گیا ہو۔ ۶۔ منتخب مضامین کانفرنس کے دوران پیش کئے جائیں گے اور ایک CD کی صورت میں شرکت کرنے والے حضرات کو دیئے جائیں گے۔ ۷۔ محقیقین اپنے مقالات کو درج بالا شرایط کے تحت (فرینچ، اردو، ترکی، جرمن، اسپانیایی) زبانوں میں بھی لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔ ارسال کا طریقہ:
ایڈریس اور مضامین کو بھیجنے کا طریقہ کار : ۱: درج ذیل ایڈریس کے ذریعے مضامین بھیجے جاسکتے ہیں : ۲: مقالات کو CD کے ساتھ پرنٹ شدہ حالت میں، ” دبیر خانہ اجلاس بیداری اسلامی” کے نام پر درج ذیل ایڈریس پر بھیج سکتے ہیں : “تھران، خیابان ولی عصر (عج)، خیابان خرسند، پلاک ۳۵، تلفن ۰۲۱-۲۶۲۱۷۵۹۷، دبیر خانہ اجلاس بین المللی زنان و بیداری اسلامی۔ مضامین بھیجنے کی مقررہ تاریخ : مضامین کو بھیجنے کی آخری تاریخ ۳۰/۳/۱۳۹۱ ھجری شمسی مطابق با ۲۸ رجب ۱۴۳۳ ھجری قمری اور ۱۰ جون ۲۰۱۲ میلادی۔ تشویق کا طریقہ کار : ۱۔ منتخب شدہ مضامین کے مولفین کو خصوصی مھمان کے حوالے سے دعوت دی جائے گی۔ ۲۔ منتخب شدہ مضامین کے مولفین کو متعلقہ کمیٹیوں کے اجلاس اور کانفرنس کے دوران اپنے مضامین کو پیش کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ ۳۔ منتخب شدہ مضامین کو کتاب اور مجلات کی صورت میں نشر کیا جائے گا۔ ۴۔ منتخب شدہ افراد کو معنوی ھدایا اور علمی، دینی، اور سیاحتی دورہ جات پر بھیجا جائے گا۔ طبقه بندی: سکالرز اور اسلامی بیداری ، اسلامی بیداری نمایش، جوان اور اسلامی بیداری ، رھبر انقلاب سید خامنہ ای کے بیانات، اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، اسلامی بیداری کی خبریں، [ دوشنبه 1391/03/1 ] [ 05:22 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۸ء سے آج تک امریکا اسرائیل کے ہر غیر قانونی اقدام کی حمایت کرتا آیا ہے، رواں سال حالات اچانک تبدیل ہوئے ہیں، مشرقی وسطی میں اسلامی بیداری انشاء اللہ اسرائیل کے خاتمہ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی چونکہ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے لیے ناسور زخم ہے، ان کا کہنا تھا کہ صہیونی و امریکی لابی مشرقی وسطی کے اسلامی انقلابات کو فرقہ واریت کا رنگ دے کر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالسی نافذ کرنا چاہتی ہے، مگر وہ کبھی بھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونگے، اس موقع پر انہوں نے ۱۶مئی مردہ باد امریکا اور نامنظور اسرائیل ریلیاں پشاور پریس کلب، کوہاٹ پریس کلب اور پاراچنار میں نکالنے کا اعلان کیا۔ طبقه بندی: اسلامی بیداری کی خبریں، [ جمعه 1391/02/29 ] [ 01:39 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
ا طبقه بندی: اسلامی بیداری کی خبریں، [ شنبه 1391/01/12 ] [ 02:12 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
اسلام ٹائمز۔ سنی اتحاد کونسل سے وابستہ پچاس مفتیوں نے اجتماعی فتویٰ جاری
کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیٹو سپلائی بحال کی گئی تو یہ فیصلہ غیر شرعی،
غیر اسلامی اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔ مفتیانِ
اہلسنّت نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ برادر اسلامی ملک افغانستان میں بے
گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والی فوجوں کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعاون
شرعی لحاظ سے درست نہیں، پاکستان کو امریکی اور نیٹو افواج کو سہولتیں
فراہم کرنے کی بجائے انہیں فوراً افغانستان سے نکل جانے پر مجبور کرنا
چاہیے، جارح ملک کا ساتھ دینا کسی بھی طرح جائز نہیں۔
بقیہ طبقه بندی: اسلامی بیداری کی خبریں، [ پنجشنبه 1391/01/10 ] [ 10:47 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا
اسرائیل کی جانب سے ہر حملے کا اسی سطح پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز- تابناک نیوز ایجنسی کے مطابق قائد انقلاب اسلامی ایران آیت
اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کل نئے شمسی سال کے آغاز پر مشہد مقدس میں
روضہ امام علی رضا علیہ السلام پر لاکھوں عقیدت مند افراد کے عظیم اجتماع
میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور
نہ ہی وہ اس قسم کے ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن امریکہ یا اسرائیل
جان لے کہ اگر حملہ کیا تو ہم بھی اسی سطح پر اس حملے کا منہ توڑ جواب دیں
گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے گذشتہ سال کے دوران دشمن ممالک کی جانب سے سیاسی، اقتصادی، فوجی اور سیکورٹی دھمکیوں کے مقابلے میں ملت ایران کی کامیابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی استکباری قوتوں کی ایران سے دشمنی کی اصلی وجہ ملت ایران کی جانب سے قدرتی وسائل کے عظیم ذخائر کی حفاظت ہے اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران شیر کی مانند ایرانی قوم کا دفاع کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ دشمن ممالک کی جانب سے دھمکیوں کا اصلی مقصد ملت ایران کو مرعوب، ناامید اور اسکی روز بروز بڑھتی ہوئی ترقی کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہمارے دشمنوں نے اپنی تمام تر توانائیاں یہ ثابت کرنے میں لگا دیں کہ ملت ایران توانا نہیں لیکن ہماری قوم نے امام خمینی رہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ ہم توانا ہیں۔ بقیہ حصہ طبقه بندی: اسلامی بیداری کی خبریں، [ پنجشنبه 1391/01/3 ] [ 04:35 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
از نذرحافی دن بھرکے تھکے ہوئے شکاری نے ایک مرتبہ
حسرت بھری نگاہوں سے بھوک اور پیاس سے نڈھال اپنے گھوڑے کودیکھا اور پھر ٹھنڈی آہ
بھر کراس نے ایک بڑے پتھرکے ساتھ ٹیک لگالی۔اس کی آنکھیں نینداور سستی کی وجہ سے
آہستہ آہستہ خود بخود بند ہوتی جارہی تھیں۔اس نے کئی مرتبہ نیند اور غنودگی کے
خلاف لڑنے کی کوشش کی لیکن بالاخرسخت سردی کے باوجودبے سدھ ہوکر کسی نیم مردہ شکار
کی طرح اوندھے منہ گر پڑا۔ گھوڑے نے کئی مرتبہ ہنہنا کر شکاری کو بیدار کرنا چاہالیکن
وہ مردِ بے ہوش کسی طرح بھی ہوش میں نہ آیا۔ اب رات کی تاریکی نے جنگل کو اپنی لپیٹ میںلینا شروع
کردیا۔رفتہ رفتہ بڑے بڑے پہاڑوں اور درختوں نے کسی سیاہ کمبل کی طرح رات کو اپنے
اوپر اوڑھ لیا اور ہرطرف سنّاٹا چھا گیا۔ وفادار گھوڑا شب بھراپنے مالک کے گرد چکر کاٹتا رہا۔جب شکاری
کی آنکھ کھلی توافق پر صبح کے آثار نمودار ہو چکے تھے، اس نے شاباش دینے کی
خاطراپنے یخ بستہ ہاتھوں سے گھوڑے کی نرم و گرم پیٹھ کو سہلایا اور
تھپتھپایا،گھوڑے نے ہنہنا کر مالک کا شکریہ ادا کیا۔پھر شکاری نے گھوڑے کی پیٹھ پر
باندھی ہوئی تھیلی کو کھول کرکچھ چنے نکالے اورگھوڑے کے منہ کے سامنے رکھ دئیے۔
گھوڑا چر چر کرکے دانے کھانے لگا اور شکاری نے دوبارہ پتھرسے ٹیک لگانے کے بعد
اپنی آنکھیں موند لیں۔ ادامه مطلب طبقه بندی: اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، [ شنبه 1390/12/27 ] [ 10:52 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
[ شنبه 1390/12/27 ] [ 09:50 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
شام میں اجالا از سید علی جواد ہمدانی بحیرہ روم کے سنگم پر واقع سوا دو کروڑ آبادی کے ملک شام (Syria) میں سیاسی اصلاحات (Reforms) پر کرائے گئے ریفرنڈم مورخہ ۲۷ فروری ۲۰۱۲ء میں تقریبا ۵۸ فیصد افراد نے شرکت کی اور اس نئے قانون کی ۸۹ فیصد نے منظوری دی۔ موجودہ حکومت پر اس عوامی اعتماد اور حمایت کے بل بوتے پر شامی فوج نے چار مارچ کو کلین اپ اپریشن کرتے ہوئے حمص کے باب عمرو علاقے سے کئی ممالک کی پشت پناہی والے شر پسندوں کا مکمل صفایا کردیا ہے۔ اس کاروائی میں نہ صرف اس علاقے سے ہمسایہ ممالک تک جانے والی کئی خفیہ سرنگیں تباہ کی گئیں، بلکہ جدید ترین امریکی اور اسرائیلی ساختہ ہتھیاروں کے علاوہ علاقے کے کئی ممالک کی انٹیلیجنس سروسز کے کارندوں کے ہمراہ، ۱۲ کے قریب فرانسیسی خارجہ سلامتی کے مرکز کے فوجی (DMSG) افسر بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ آخری اطلاعات تک فرانس نے سرکاری طور پر ان کی آزادی کے لیے روسی ثالثی کی درخواست کی ہے۔ بقیہ حصہ طبقه بندی: اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، [ پنجشنبه 1390/12/25 ] [ 12:54 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
"اسلامی بیداری اورباہمی اتحاد و وحدت" استکبارکے تسلط میں اہم رکاوٹ بیشک عالمی استکبار، نہ صرف امتِ مسلمہ کی بیداری، اسلامی اتحاد اورمسلم اقوام کے علم ودانش، سیاست اور استعداد جیسی اعلی صلاحیتوں اور پیشرفت اورترقی کوپوری دنیاپراپنے قبضہ میں اہم ترین رکاوٹ سمجھتا ہے بلکہ اپنی پوری طاقت سے اس کا سر توڑ مقابلہ بھی کرتا ہے۔ ہم مسلمان قومیں پرانے اور نئے استعمار، دونوں کا زمانہ دیکھ چکے ہیں اور ہمیں اس کا بہتر اندازہ ہے۔ آج جبکہ ایک نئے جدید استعمار کا دور ہے توہمیں چاہیے کہ ان گذشتہ تلخ تجربات سےعبرت حاصل کریں، دوبارہ ایک لمبے عرصہ تک دشمن کواپنے اوپر مسلط نہ کریں اوراپنی تقدیراس کے ہاتھوں میں نہ دیں۔ [1] طبقه بندی: رھبر انقلاب سید خامنہ ای کے بیانات، [ جمعه 1390/12/19 ] [ 06:08 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
[ پنجشنبه 1390/12/18 ] [ 12:26 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائِے ]
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی "رہ" پاکستان کی سر زمین پر اسلامی بیداری کا مجاہد از : سید محمد میثم ہمدانی
باقی حصہ کیلئے یہاں کلک کریں طبقه بندی: اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، [ پنجشنبه 1390/12/18 ] [ 08:47 ق.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے ]
ڈاکٹر نقوی شہید نے کبھی آئی ایس او کو جاگیر سمجھا، نہ اس سے غافل ہوئے 1985 ء سے آئی ایس او سے وابستہ، زمیندار گھرانے سے تعلق اور عجز و
انکساری سے بھرپور شخصیت کے مالک ظفر اقبال سرگانہ ڈاکٹر شہید محمد علی
نقوی کے عاشقوں میں سے ہیں۔ مرکزی صدور سید حسنین عباس گردیزی اور سید راشد
عباس نقوی کے ساتھ آئی ایس او کے یونٹ صدر، مرکزی سیکرٹری آفس اور مرکزی
سیکرٹری مالیات کی تنظیمی ذمہ داریوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس
دوران ڈاکٹر شہید نقوی کے بھی بہت قریب رہے، جسے وہ سرمایہ حیات سمجھتے
ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں
پیش کیا جا رہا ہے۔ بشکریہ اسلام ٹایمز بقیہ حصہ طبقه بندی: اسلامی بیداری سے متعلق مختلف تجزیہ و تحلیل، [ دوشنبه 1390/12/15 ] [ 12:52 ب.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ اپنی رائے دیں ]
[ دوشنبه 1390/12/15 ] [ 12:28 ق.ظ ] [ میثم ھمدانی ]
[ رائے دیں ]
|
|
| [ طراحی : وبلاگ اسکین ] [ Weblog Themes By : weblog skin ] |